منظور فتنہ

یک وقت تھا جب میرانشاہ پہ حکیم خان نامی بدمعاش کا راج ہوا کرتا تھا۔ اسوقت بھی طالبان اس علاقے میں موجود ہوا کرتے تھے اور سننے میں آتا ہے کہ بات یہاں تک آگئی تھی کہ دلہن کا نقاب اٹھا کر پہلے وہ دیکھتا تھا اسے۔ پھر طالبان کی گاڑی کیساتھ شائد غنڈہ ٹیکس کے معاملے پہ تنازعہ بنا اور پھر وہ کتے کی موت تو مارا نہ جاسکا لیکن اسکے ساتھی مارے گئے بعد میں شائد وہ بنوں میں مارا گیا۔

حکیم خان گاڑی لیکر بازار نکلتا اور مارکیٹ میں آرام سے گاڑی گھوماتا اور یہ دکاندار پیسے ڈال رہے ہوتے گاڑی کے ڈالے میں۔ عورت اغواء ہوجاتی مرد لڑکے اغواء ہوجاتے کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں تھا۔

پھر طالبان راج قائم ہوا اس علاقے میں اور اسلامی نظام اور ریاست قائم کرنے کا لولی پاپ تما دیا گیا پشتون اقوام کو اور بعد یہاں تک آگئی کہ ان لوگوں کیساتھ رشتہ داریاں قائم کی گئی۔

یہی رشتہ دار بعد میں دردسر بن گئے اہلیان وزیرستان کیلئے اور #جاسوس کا نام دے کر کسی کو بھی زبح کردیا جاتا اور سر اس کے اپر رکھ کے ساتھ ایک پرچی رکھ دی جاتی کہ اس بندے کو فلاں وقت تک عبرت کیلئے یہاں سے اٹھایا نہ جائے اور خاندان والے بیچارے سائیڈ پہ بیٹھے ہوتے اور اس گھڑی کا انتظار کرتے جب اسے اٹھانے کی اجازت مل جائے۔۔

دوسرے علاقوں کے تاجر اور کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے سیلز مین اور باقی نمائندے اغواء ہوجاتے وزیرستان میں تاوان کے غرض سے اور پھر مہینوں لاپتہ ہوتے لیکن وہاں کے لوگوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ اگر کوئی راہ نکالی بھی جاتی اور رابطہ کرنے کی کوشش کی جاتی تو تاوان کی رقم بڑھائی جاتی۔

بندوبستی علاقوں میں قتل ہوجاتا بندہ یا اغواء ہوجاتا تو دونوں صورتوں میں اسے قبائلی علاقے پہنچا دیا جاتا اور پھر معاشرے کے مجرم کو محفوظ مقام مہیا کردیا جاتا۔

الغرض قانونی طور پہ بند ہر قسم کے کام مکمل سکون اور بناء کسی خوف کے وہاں کیا جاتا رہا۔ دہشتگردوں کی آماجگاہ بنا رہا ہمارا وزیرستان لیکن #منظور_پشتین یا اس جیسے باقی لوگ خاموش رہے۔

پھر وقت آیا اس علاقے کو قانون کے دائرے میں لانے کا اور آپریشن شروع ہوا ہزاروں قربانیاں پیش کی گئی، افواج پاکستان کے ہزاروں جوان جن کا تعلق پاکستان کے کونے کونے سے تھا آئے اور اس علاقے کو دہشتگردوں، خودکش حملہ آوروں، اسلحہ سازوں، اغواء کاروں، سے پاک کرنے کیلئے جدوجہد شروع کی اور علاقے کو پرامن بنایا۔ لیکن امن کی ان ساری کوششوں کو یقینی بنانے تک کیلئے بنائے گئے چیک پوسٹ اب منظور پشتین سے برداشت نہیں ہوتے۔۔

منظور پشتین کے مطابق دہشتگردوں کے معاون بننے والے اگر غائب ہیں تو وہ جرم ہے لیکن ان معاونین کی معاونت سے جو باقی لوگ رہتی دنیا تک غائب ہوگئے وہ کوئی جرم نہیں۔

#دا_سنگہ_آزادی_دا
کا نعرہ لگانے والے منظور پشتین اور اس جیسے باقی نوجوان کی ساری باتیں سر آنکھوں پہ لیکن جو حالات آج سے پہلے تھے اس پہ تمھارا خاموش رہنا اور امن کیلئے دی جانے والی ہزاروں قربانیوں کے بعد اس امن کو مستقل بنانے کیلئے اگر چند چیک پوسٹیں بنائی گئی اور دہشتگردوں کے معاونین غائب ہیں کیئے گئے اس پہ آواز اٹھانا میرے نزدیک ملک دشمن سرگرمی کے نزدیک کچھ نہیں۔

اور یہ جو آپکا نعرہ ہے اور جگہ جگہ دھرنا یہ حقیقی آزادی ہے ورنہ کسی اور اسلامی ملک میں اگر ہوتے آپ

Leave a Comment